Wehshat E Junoon By Sidra Hussain

Novel : Wehshat E Junoon  
Writer Name : Sidra Hussain

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Wehshat E Junoon Novel Complete by 
Sidra Hussain is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

ت۔۔۔۔تم۔۔۔۔۔ن۔۔۔۔ے. م۔۔۔۔جھ۔۔۔ا۔۔۔۔اغوا۔۔”تم نے مجھے اغواء کیا تھا”؟ آنیہ
نے ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں جو بیان کیا افراہیم اسکے باوجود خاموش رہا ب۔۔۔ا۔۔ ب۔ ا
(بابا)…… آنیہ کوئی بات بیٹھ کر بھی کرلیا کرو یار ۔۔۔۔۔ افراہیم نے
ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا تو مطلب وہ انکار نہیں کررہا تھا ۔۔۔۔۔۔ انیہ کو لگا وہ
ابھی گِر جائے گی لرزتی ٹانگیں بھاگنا چاہتی تھیں لیکن جان ختم ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔ آنسوؤں
پر کوئی اختیار نہ تھا جو بہہ بہہ کر گردن تک کو تر کرگئے تھے ۔۔۔۔ اچھا بیٹھو پھر
میں ساری بات بتاؤ گا شروع سے ایک بھی جھوٹ نہیں بولوں گا ۔۔۔۔ ب۔۔۔ا۔با۔۔۔۔(بابا)
انیہ نے چیخنا چاہا لیکن آواز کہی دھب گئی تھی وہ چاہ کر بھی چیخ نہیں پارہی تھی
۔۔۔۔ آنیہ تمہیں پتہ ہے تم کہاں غلطی کرتی ہو؟ جب تم ایک بار میں بات نہیں سُنتی
۔۔۔۔۔ گھر پر کوئی نہیں ہے اگر تم بیٹھ جاؤ گی تو سب بتاؤ گا۔۔۔ آنیہ اندر ہی اندر
بھاگنے کے لیے خود کو تیار کرنے لگی جبکہ افراہیم کی ہوزیشن میں کوئی فرق نہیں ایا
تھا
. ۔۔۔۔۔ آنیہ جھٹ سے دروازے کی طرف بھاگی لیکن
اُسکی ساری ہمت جواب دے گئی جب اُسنے دروازہ لاک پایا ۔۔۔۔ اُسی پل افراہیم اُٹھ
اُسکے قریب آیا اُسکا دل زورو سے دھڑک رہا تھا وہ دو قدم پیچھے ہوئی تو افراہیم نے
جھٹ سے اسے بانہوں میں لیا ۔۔۔۔۔ اب تو تم جان گئی ہو تو زیادہ مزہ ائے گا ۔۔۔۔۔ چھوڑو
میں بابا کو ” ششششششش یہ تم اب غلط کررہی ہو جان میں پیار سے بات کررہا ہوں
اور تم”؟ افراہیم کی انگلی اسکے ہونٹوں پر تھی ہونٹ لرز رہے تھے جن کی
کپکپاہٹ افراہیم محسوس کررہا تھا ۔۔۔۔۔ تمہاری طبعیت بہت خراب ہے آنیہ رحم کرو
“لیکن “مجھ پر میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ افراہیم نے آنکھیں بند
کر آنیہ کی خوشبو خود میں اُتراتے ہوئے کہا تو آنیہ افراہیم کے نئے روپ سے زیادہ
ڈرنے لگی ۔۔۔۔ پ۔۔۔ل۔۔ی۔۔ز۔۔۔ جانتی ہو جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہی ہوتا ہے تم نے
ابھی کہا میں بابا کو بتا دوں گی اچھا کیا جو کہہ دیا اب میں بھی کچھ سوچتا ہوں کہ
تمہیں بابا سے کیسے دور رکھا جائے ۔۔۔۔ افراہیم کی بات سُنتے ہی انیہ ڈھلی پڑ گئی
وہ جو اپنی ہمت کے مطابق تھوڑی بہت مذمت کررہی تھی اُسنے وہ بھی چھوڑ دی ۔۔۔ ارے
کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ مجھے تمہاری آنکھوں میں آنسوں بلکل اچھے نہیں لگتے
۔۔۔۔۔ افراہیم نے اسکے آنسوں اپنے ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔ تم افراہیم
نہیں ہو ۔۔۔۔آنیہ نے پہلی بار اُسکا نام لیا تو افراہیم مسکرایا ۔۔۔۔۔۔ ہاں میں وہ
افراہیم نہیں ہوں میں تمہارا افراہیم ہوں ویسے اب تم سب جان ہی گئی ہو تو تمہیں
کسی بات پر اعتراض نہیں ہونا چاہیئے اُسنے کہتے آنیہ کے ہونٹوں کو قید کرنا چاہا
لیکن آنیہ اپنی پوری ہمت سے منہ پھیر اُسے پیچھے دھکیلنے لگی ۔۔۔۔۔ آنیہ غصّہ مت
دلاؤ مجھے ۔۔۔۔افراہیم نے چہرے پر سنجیدگی سجائے آنیہ کو گھورا ۔۔۔۔ پلیز مجھے
جانے دو پلیز ۔۔۔۔۔ نہیں میری جان اب تمہیں ساری زندگی میری قید میں رہنا ہے اج کے
بعد تم اس کمرے سے باہر نہیں نکل سکو گی اس نے بہت پیار سے انیہ کے بال چہرے سے
ہٹائے ۔۔۔۔ آنیہ نے سوالیہ نظروں سے آسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔ جان اب تم سب جان گئی ہو
تو میں رسک نہیں لے سکتا تو آج سے تم اس روم سے باہر نہیں نکل سکو گی ۔۔۔۔۔ نہیں
پلیز میں کسی کو کچھ نہیں کہوں گی پرامس ” شششششش کوئی فائدہ نہیں پریشان
ہونے کا یہ فیصلہ اٹل ہے
میرے بابا مجھے یہاں سے نکال لے گے میں یہاں نہیں رہوں گی آنیہ
ناجانے کیوں چلائی تھی کیا وہ افراہیم کو خوف میں مبتلا کرنا چاہتی تھی ؟ ہاہاہا
افراہیم زور دار آواز میں ہنسا اور ایک جھٹکے سے آنیہ کا سر دیوار میں دے مارا
دوسرے ہی پل وہ آنیہ کو چھوڑ شیشے کے سامنے آہ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ اس نے شیشے پر اپنے
ہاتھ سے وار کیا جس سے اس ہاتھ زخمی ہوگیا ۔۔۔۔ آنیہ اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے جس
سے خون بہہ رہا تھا افراہیم کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔ یہ تم نے کیا کردیا آنیہ؟ وہ معصوم
سی شکل بنا کر آنیہ کی طرف پلٹا ۔۔۔۔۔ آنیہ کے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی وہ
نفی میں سر کو ہلاتے ہوئے وہی زمین پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔

Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}
Online Reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *