Kuch Muhabbatein Anjan See By Umaima Mukkaram

 

Novel : Kuch Muhabbatein Anjan See  
Writer Name : Umaima Mukkaram

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Kuch Muhabbatein Anjan See Novel Complete by 
Umaima Mukkaram is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

یہ
نکاح ہوگا اور آج ہی ہوگا۔

فلزہ جو ازلان کے ہاتھ باندھنے پر ہوش
میں آرہی تھی نکاح کا سن کر فورا حواس بیدار ہوۓ۔

اوہ
جیسے یہ تو مان جائیگی آسانی سے ۔۔

فلزہ کی طرف ہاتھ کرکےکہا جبکہ نظریں
دونوں کی ایک دوسرے پر تھیں۔

خرم
زبردستی نکاح ہوگا یار۔۔ تم اتنا گھبراؤ مت ۔۔ جانتا ہوں پہلی بار یہ سب کررہے ہو
۔میں بھی تو پہلی بار ہی کررہا ہوں نا ۔۔ تھوڑا صبر اور حوصلہ رکھو۔

ازلان نےاسکے کندھے سہلائے اور رخ
کرسی سے بندھی کالی گھٹری کی طرف کیا جو خاموشی سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔

اوہ
مائی گاڈ۔۔ فورس میریج۔۔ تو یہ سفید جراثیم بدلا لینے کے لیے مجھ سے نکاح کریگا۔۔ وللّٰہ
یقین نہیں آرہا۔

اسکے ہاتھ بندھے تھے ورنہ یقیناً وہ
بھنگڑا ڈالتی ۔

لیکن
یہ وڈیرہ تو نہیں ہے بشر مومن کی طرح ؟

خوشی کے رنگ میں بھنگ پڑا ۔۔ خرم
وڈیرہ کیوں نہیں تھا۔

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم دونوں کو
دیکھ رہی تھی۔

اور وہ دونوں بھی حیرت کی مورت بنے
اسے تک رہے تھے۔

خرم تو اس لیے تک رہا تھا کہ وہ اب تک
خاموش کیوں تھی ؟ اسنے تو سوچا تھا آیت ہوش میں آتے ہی ہنگامہ مچا دیگی۔

اور ازلان اسلیے حیران تھا کیونکہ یہ
آنکھیں جو نقاب سے جھانک رہی تھیں وہ آیت کی نہیں تھیں۔ آیت کی آنکھیں تو سیاہ
تھیں اور یہ ڈارک براؤن۔

چلو
جو بھی ہے۔۔ ڈیرنگ ہے جبھی تو اغواء کیا ہے۔۔

غنڈہ نا صحیح پر غندوں والی خصوصیات
تو ہیں ۔۔

دل کو یک گونہ سکون ملا۔

ازلان نے تفتیش سے آگے بڑھتے اسکا
نقاب کھینچا تو ازلان کے ساتھ ساتھ خرم کی آنکھیں بھی صدمے سے پھٹ گئی۔

جبکہ فلزہ انکے ہونق بنے چہرے دیکھنے
لگی۔

وہ فورس میریج کی دیوانی لڑکی یہ بھول
گئی تھی کہ ایسی شادیوں میں لڑکی سہمی ہوئی ہوتی ہے جبکہ وہ تو اطمینان سے دونوں
کو دیکھ رہی تھی۔

تمہیں
تمیز نہیں ہے لڑکی اغواء کرنے کی ؟۔۔ اتنی بری طرح میرا منہ پکڑا کے نقاب کے ساتھ
رگڑ گیا۔

جب وہ دونوں ایسے ہی بت بنے کھڑے رہے
تو مجبورناً وہ ہی غصے سے بولی۔

ازلان تو ویسے ہی بت بنے اپنی بدقسمتی
پر یقین کرنے کی کوشش کررہا تھا جبکہ اسکے اس طرح غصے سے بولنے پر خرم کو اپنی بے
عزتی یاد آئی۔۔

نفسیاتی
مریضہ میں کوئی پروفیشنل کڈنیپر نہیں ہوں سمجھی۔۔

وہ بھی انگلی اٹھاتے آگے بڑھا۔

تو
جو کام آتا نہیں وہ کرتے کیوں ہو۔۔۔

فلزہ نے بھی جواب دیا۔

تمیز
سے رہو ۔۔پہلے ہی تم سے بہت حساب نکلتے ہیں اور مت دماغ خراب کرو۔

اوووو
ریئلییییی۔۔۔ دیکھو میں تو ڈر گئی۔

معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے وہ جان
بوجھ کر اسے اکسا رہی تھی ۔۔۔ تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائے ایک تھپڑ ہی ماردے
تاکہ زبردستی نکاح والی فیلنگز آئے ۔۔

خرم کوئی جواب دیتا اس سے پہلے صدمے
سے نکلتے ازلان نے اسکا ہاتھ کھینچا اور کونے میں لے گیا۔

خرم
یہ کیا ہے۔ ؟

غصے سے لب بھینچتے اسنے خرم کوگھورا۔

مجھے
کیا پتا یہ نفسیاتی آجائیگی۔۔۔ آیت نے بھی تو سیم ایسا ہی برقعہ پہنا تھا ۔

وہ بھی دبی آواز میں غرایا۔

تو
تم اسکی آنکھوں کا کلر ہی دیکھ لیتے۔۔ آیت کی آنکھیں بلیک ہیں۔

محبوبہ
تمہاری ہے وہ ازلان میری نہیں ۔۔ مجھے کیا معلوم کے اسکی آنکھوں کا رنگ کیا ہے ؟

خرم کی بات پر ازلان نے زور سے آنکھیں
میچیں۔

اچھا
خیر چھوڑو اب کیا کرنا ہے اسکا۔

ازلان نے صبر کا گھونٹ پیتے کہا۔

مجھے
کی پتا کیا کرنا ہے ۔۔ یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے۔ اب لڑکی غلط آگئی اس میں میری کیا
غلطی “۔

ازلان نے اسکی بات پر مڑ کر فلزہ کو
دیکھا ۔ خرم نے بھی پلٹ کر دیکھا ۔ وہ ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔

یہ
اتنے سکون سے کیوں بیٹھی ہے ۔ ؟

ازلان حیرت سے پوچھ بیٹھا کیونکہ فلزہ
کے چہرے کا اطمینان قابل دید تھا۔

ہم
شکل سے اتنے شریف لگتے ہیں؟

خرم کو خاموش پاکر ازلان پھر مخاطب
ہوا۔

نہیں
۔ یہ خود کو کچھ زیادہ ہوشیار سمجھتی ہے۔

خرم کا جواب آیا۔

اگر
ہم اسے جانے دے تو کیا یہ سب کو بتا دیگی۔ ؟

پھر سوال ازلان کی طرف سے آیا۔

ہاں
ضرور بتائیگی۔۔۔ اسکی شکل پر مت جاؤ۔ پاکستانی لڑکیاں صرف شکل سے معصوم ہیں۔ ۔۔

خرم نے رازداری سے کہا۔ بات کرتے ہوے
دونوں کی نظروں کا مرکز فلزہ ہی تھی۔

وہ بھی ان دونوں کو ہی دیکھ رہی تھی۔

اب
کیا کریں ؟

ازلان کی طرف سے ایک اور سوال۔

اس
کو دھمکائینگے ۔۔ کہینگے کے اگر کسی کو نہیں بتائیگی تبھی جانے دینگے۔

خرم نے نظروں کا رخ موڑ کر ازلان کو
دیکھا۔

تمہیں
لگتا ہے وہ مان جائیگی۔

ازلان نے پرسوچ نظروں سے آنکھیں چھوٹی
کیے فلزہ کو گھورا۔

ہاں
ورنہ دوسرا راستہ بھی ہے۔۔

خرم نے اطمینان سے کہا۔

کیا۔

کہہ
دینگے کہ اگر کسی کو بتایا تو پھر تم اس سے نکاح کرلوگے۔

خرم کی بات پر ازلان نے فورا نظریں
موڑ کر خرم کو گھورا۔

دماغ
خراب ہے۔۔ آیت کی دوست ہے وہ اور میری ہونے والی سالی بھی۔۔ دل پھینک عاشق
سمجھیگی۔۔ کہہ دینگے کے تم سے نکاح ہوگا۔ پھر۔

ازلان نے اسے جتایا۔

افففف۔۔۔
تم۔ تمہاری آیت۔۔ آیت کی دوست۔۔ اسکی دوست تمہاری سالی۔۔ میں تو آدھا پاگل ہوگیا
ہوں ۔۔ بہت جلد پورا ہوجاؤنگا۔

خرم نے سرد آہ بھری۔۔

چلو
اب۔

خرم کو اشارہ کرتے وہ واپس فلزہ کی
طرف بڑھا۔

یا
اللہ یہ ویسا تو نہیں ہے جیسا میں نےسوچا تھا۔۔ پر میں گزارا کرلونگی۔۔ اب اغواء
کیا ہے اسکا مطلب ہمت والا تو ہے۔۔

وہ خرم کو دیکھتے سوچ رہی تھی۔

لیکن
میں ایسے تو خوشی خوشی نکاح نہیں کرسکتی نا۔۔ تومنع کیسے کرونگی ؟۔۔ روکر ؟

نہیں نقلی آنسو اتنی جلدی نہیں
آئینگے۔

اسکو پریشانی لاحق ہوئی۔

افف
میں کیوں اتنا سوچ رہی ہوں میں تو نارمل لڑکیوں کی طرح بیہیو کرونگی۔۔ باقی
زبردستی تو وہی کریگا۔

دل کو تسلی ہوئی۔

یہ
دونوں کونسی کھچڑی پکا رہے ہیں ؟۔۔ کہیں نکاح کا ارادہ بدل کر بوری بند لاش کی
پلاننگ تو نہیں کررہے۔

ایک نیا خدشہ لاحق ہوا۔

نہیں
خوبصورت ہوں میں۔ اور ایسے کیسے اتنی پیاری لڑکی کو کوئی قتل کرسکتا ہے

خود کو تسلی دیتے اس سے پہلے وہ کچھ
اور سوچتی دونوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ اسکی سوچیں ٹہریں۔

فلزہ
دیکھو ہم تمہیں واپس بھیج دینگے۔ لیکن اس شرط پر کے تم گھر جاکر کسی کو بتاؤگی
نہیں۔

ازلان نےبات شروع کی۔

فلزہ نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا۔
اسے نجانےکیوں خرم پر شدید غصہ آیا۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی۔۔

Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}
Online Reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *