Khumar Teri Qurbat Ka By Zile Huma

 

Novel : Khumar Teri Qurbat Ka 
Writer Name : Zile Huma

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Khumar Teri Qurbat Ka Novel Complete by 
Zile Huma is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

دور رہو مُجھ سے وحشی انسان…. کیا سمجھتے ہو بندوق کی نوک
پر نکاح کروا کر مُجھے خرید لو گے
…. حدید حمنا کے ایک دم جھٹکے دینے سے زمین پہ گِر چُکا تھاحدید عالم تُم ایک گھٹیا مرد ہو..، سمجھ لوکیا سودا کر کہ لیکر آۓ ہو مجھے.. ، مجھے تو لگتا ہے تُم اُن
کے ساتھ ملے ہو.. اور سوداا
……. حمنا کے الفاظ حدید عالم کے زور دار تھپڑ نے بند کیے تھےحدید نے سختی سے حمنا کو بازوؤں سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ
لگایا تھا…. اور حمنا کی آنکھوں میں اپنی نظروں کا زاویہ رکھا تھا
آہہہہہ…. تُم نے مُجھے مارا، چھوڑو مجھےایک لفظ نہ نِکلے تمھاری زبان سے حمنا عالمبیوی ہو میری.. نہ بھی ہوتی تو مُحبت ہو میری، عشق ہو میرا،، کسی
کو ہاتھ لگانے سے پہلے اُسکے ہاتھ کاٹ دیتا
….
حدید نے بازوؤں کو سختی سے حمنا کی کمر پہ رکھ
کر حمنا کی کمر کو اپنے سینے سے لگاتے.. دوسرا ہاتھ حمنا کی کمر پہ سختی سے ٹِکایا
تھا
حمنا میں نے آج کیسے.. یاں یُوں کہو کیسے میرے رب نے مُجھ پہ
کرم کیا میں نہیں جانتا، مگر میں تُمھارا مکمل مُخافظ ہوں

حدید نے کہتے ہی حمنا کی گردن پہ پیچھے سے بال
ہٹاتے اپنے ہونٹ رکھے تھے
مگر حمنا کے سامنے تو اپنا ماضی سب فلم کی طرح چل رہا تھاحدید کی پکڑ میں نرمی آتے ہی حمنا نے حدید کو خود سے الگ کیا
تھا
…. … اپنی بکواس بند کرو، حدید.. لفظوں سے جیت لینا تو تمھاری
پرانی عادت ہے
…. تُم سے میں نفرت کرتی ہوں….
تُم میرے مخافظ نہیں ہو……
ایک مرد کے لیے اِس سے ذیادہ گھٹیا اور ذِلّت
کی بات اور کیا ہو گی حدید عالم
…. کہ اُسکی بیوی اُس سے نفرت کرتی ہے اور اس پہ بھروسہ نہیں
کرتی.. اُسے اپنا مُخافظ نہیں سمجھتی
حمنا عالم تُم سے نفرت کرتی ہے.. یاد رکھنا.. طلاق چاہیے مجھے
تم سے
اپنی بکواس بند کرو.. حمنا
حدید نے روتی آنکھوں کے ساتھ حمنا کو اپنے ساتھ
لگایا تھا
مجھ سے الگ ہونے کا اب سوچنا بھی نہ….
باقی رہی بات، چلو تُم نے مانا تو سہی کہ تُم
اب حمنا عالم ہو.. میں اِسی میں خوش ہوں

یہ کہتے ہی جہاں حمنا کے لبوں پر اپنے ہونٹوں
کی گرفت مضبوط کی تھی وہی حمنا کی کمر پر بھی گرفت مضبوط کرتے اپنا ہونے کا احساس
دلایا تھا
…. چلو زندگی چلتے ہیں….. باقی کا کام رخصتی کے بعد رکھ لیتے

Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}
Online Reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *