Dil E Raqsam Novel By Hina Asad

Novel : Dil E Raqsam
Writer Name : Hina Asad
Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping basad , second marriage based,
Dil E Raqsam Novel Complete by Hina Asad is available here to download in pdf form and online reading.

 

کیا مجھے بھی معافی مل سکتی ہے”؟

قلب نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اور
اپنا ہاتھ اس کے آگے کیا۔۔۔۔۔

ناراض
ہو گی یہ تو مجھے معلوم تھا مگر اتنی زیادہ اس بات کا اندازہ نہیں تھا

اس کی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی مانند بہہ رہے
تھے دل گومگوں کی کیفیت میں مبتلا تھا ،

اذیت
کے بدلے اذیت دے کر کبھی تسکین نہیں ملتی،سکون معاف کر دینے کے بعد ہی ملتا ہے
“وہ دھیمے سے بول کر اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے گئی۔۔۔۔۔

قلب نے اسے ہاتھ سے کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا
۔۔۔

اور خود میں زور سے بھینچ لیا۔۔۔پریا نے بھی اس
کے گرد اپنے بازو حمائل کیے آج پہلی بار وہ اپنی خوشی سے ایک دوسرے کے قریب آئے
تھے۔جانے کتنے ہی پل گزر گئے انہیں ایک دوسرے کو یوں محسوس کرتے ہوئے ۔۔۔

ایک
بات پوچھوں ؟”پریا نے کہا

ہمممم’وہ
سرگوشی نما آواز میں اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھو کر بولا۔۔۔۔

اب
بولتی کیوں بند ہو گئی” قلب کا اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چھونے سے وہ خود
کو مزید بولنے کے قابل ہی نہ پا رہی تھی،

گلابی گال اس کی حد درجہ قربت پہ دہک کر اناری
ہو چکے تھے۔

آپ مجھ
سے پیار کرتے ہیں ؟”دل میں مچلتا ہوا سوال آخر کار زبان پر آیا۔۔۔

قلب نے جھک کر اس کی بولتی بند کر دی۔۔۔۔

دل جیسے اپنی جگہ سے نکل کر حلق میں اٹک گیا
ہو۔۔۔

اس ذو معنی خاموشی میں دونوں کی تیز رفتار
دھڑکنیں ایک دوسرے کو بخوبی سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔

کچھ دیر بعد جب قلب نے اس کے گداز لبوں کوآزادی
بخشی تو وہ نظریں جھکائے اپنے سانس بحال کرنے لگی۔

مل گیا
جواب اپنے سوال کا یا ابھی اور یقین دلانا پڑے گا اپنی محبت کی شدت کا” ؟؟؟؟

وہ اس کا شرم زدہ چہرے اپنی پوروں سے اوپر اٹھا
کر بولا۔۔۔۔

وہ اس کے کشادہ سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی۔۔۔۔قلب
نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔۔

دونوں آسودگی سے مسکرا دئیے۔۔۔۔۔

تکلیف ،غم ناراضگی سب مٹ گئے،سب غموں کا مداوا
ہو گیا،بدلے ،نفرت اور محبت کے درمیان چھڑی جنگ میں بلآخرجیت ہوئی صرف محبت کی۔


$ads={2}
Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}

ONLINE READING

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *