Tarap La Hasil Complete Novel By Sumayya Rashid

 

Novel : Tarap La Hasil Complete Novel Pdf
Writer Name : Sumayya Rashid

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Tarap La Hasil Complete Novel Pdf Novel Complete by 
Sumayya Rashid is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

منیزہ۔۔۔ ازلان نے کمرے کا دروازہ نوک کرتے ہوئے کہا۔۔ منیزہ
نے اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسوؤں کو صاف کیا اور خود کو کمپوز کرتے ہوئے اسے اندر
آنے کو کہا۔۔۔ کل تم جا رہی ہو۔۔۔؟؟ جی۔۔وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔۔ مت جاو
پلیز۔۔۔ ازلان کی بات سن کر اس نے ایک نظر اٹھا کر دیکھا جو اسے التجائی نظروں سے
دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ ایک ہفتہ ہو گیا وہ نظر چُرا گئ۔۔۔۔۔ اب ۔۔۔میرا مطلب ہے ہمیں
کتنا مزا آتا تھا۔۔ہم ساتھ کھیلتے تھے باتیں کرتے تھے ۔۔۔۔کتنےاچھے دن تھے ہمارے
۔۔کاش!! یہ بچپن ختم ہی نہ ہوتا۔۔۔۔ ہممم اس نے ہلکی سی مسکان بھری۔۔۔۔۔ منیزہ۔۔۔۔؟
اس کی آواز پر منیزہ نے اس کی طرف دیکھا اور محض اشاروں میں جی کہا۔۔۔ اداس ہو۔۔۔؟
نہیں تو۔۔۔ رو لو دل ہلکا ہو جائے گا۔۔۔ ازلان کی بات پر وہ ٹھٹکی۔۔۔ اور خالی
آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔ مجھے سب پتہ ہے میں سب جانتا ہوں۔۔ سوری میں نے
تمہاری اور تائی جان کی بات سن لی تھی۔۔۔ کیا۔۔ کیا سُنا آپ نے۔۔؟منیزہ کو ایک دم
سمجھ نہیں آئی کہ وہ کیا کہے کیا کرے ۔۔ دیکھو مجھے غلط نہیں سمجھنا۔۔ بابا نے
جاتے جاتے اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔ لیکن اگر میں سچ بتاؤں تو
میں تم سے سچ میں محبت کرتا ہوں میں تم سے کبھی کہہ نہیں پایا۔۔۔جب تم لوگ جا رہے
تھے تب میری اور بابا کی لڑائی بھی ہوئی تھی اور اس دن میں بہت رویا تھا۔۔۔ تایا
جان نے اپنی زندگی میں کئ دفع ہماری شادی کا ذکر کیا تھا۔۔ میں نے اس کے بعد کسی
لڑکی کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔۔۔لیکن پھر بابا کی وجہ سے تمہیں جانا پڑا پھر
میں نے سوچا کہ اگر میری محبت سچی ہوئی تو تم مجھے ضرور ملو گی اور دیکھو اللہ
تمہیں یہاں لے آیا۔۔۔ مانا کہ تم نے ہمیشہ کزن ہی سمجھا ہے لیکن تم ہمیشہ سے میری
خواہش رہی ہو۔۔۔ منیزہ کے پاس جیسے کوئی الفاظ نہیں بچے تھے وہ کبھی اسے دیکھتی تو
کبھی سر نیچے جھکا لیتی۔۔۔ دیکھو مجھے پتہ ہے تم اس سے محبت کرتی ہو اور اس نے
تمہاری سچی محبت کی قدر نہیں کی۔میرا یقین مانو وہ شخص اس قابل ہی نہیں تھا کہ تم
اسے ملتی۔۔۔ اس نے تمہارے جذبات کی قدر نہیں کی وہ بہت پچھتائے گا۔۔۔۔ تم ایک بار
مجھ پر بھروسہ کر کے دیکھو میں ساری خوشیاں تمہیں دوں گا۔۔۔ مانا کہ تم نے خواب جو
سجائے تھے اس میں میرا کہیں ذکر نہیں تھا لیکن ان خوابوں کو میں پورا کروں گا
تمہیں اتنی خوشیاں دوں گا کہ تم بھول جاو گی کہ کوئی شخص تھا تمہاری زندگی میں۔۔ ترس
آرہا ہے آپ کو مجھ پر؟ منیزہ نے بے بسی سے کہا۔۔۔ نہیں۔۔۔ جس طرح تم اپنی محبت کے
لئے تڑپی ہو شاید اسی طرح میں نے بھی تمہارا انتظار کیا ہے۔۔۔ لمحہ لمحہ اپنے رب
سے مانگتا تھا تمہیں میں ۔۔۔۔ لیکن میں اب بھی تمہیں یہی کہوں گا کہ اگر تمہیں
میری محبت پر بھروسہ ہے تو ہی ہاں کرنا ورنہ تمہاری مرضی ہے۔۔۔میں تمہارے جواب کا
انتظار کروں گا ۔۔۔اپنی بات مکمل کر کے وہ وہاں سے چلا گیا۔۔۔ اس کے جاتے ہی منیزہ
کا دل پھر سے ڈوبنے لگا اس نے ڈوبتے دل کے ساتھ وضو بنایا اور پھر اپنے رب سے
باتیں کرنے لگی۔۔۔ اللہ کیا ازلان کی دعاؤں میں میری دعا سے ذیادہ اثر تھا۔۔؟ یا
پھر اسے تو نے میرے لئے چُنا ہے۔۔میرے مالک مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا فیصلہ
لوں۔۔اے رب العزت میری مدد فرما اور مجھے صحیح راستہ دکھا۔۔۔۔ نماز کے بعد اس نے
قرآن اٹھایا اور پڑہنے لگی جہاں اس نے آخری دفع نشان لگایا تھا۔۔۔ پڑہتے پڑہتے اس
کی نظر ترجمہ پر گئ جہاں لکھا تھا۔۔
اور یقیناً آگے آنے والے حالات تمہارے لئے پہلے حالات سے بہتر
ہیں “۔ یہ آیت پڑھ کر اس کے چہرے پر پُرامید کی مسکان پھیل گئ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی
آگے والی آیت میں لکھا تھا
اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا دے گا کہ
تم خوش ہو جاؤ گے“ اسے آج پہلی دفع ایسا لگا کہ اللہ اس سے بات کر رہا ہے۔۔۔ قرآن پڑھ
کر اس نےبڑی ہمت سے موبائل اٹھایا۔۔۔ اطہر۔۔۔۔؟؟ اسکرین پر یہ میسج دیکھ کر اطہر
نے اسی نمبرپر کال ملائی۔۔۔۔ ہلو۔۔۔ سامنے والے کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ اس کی
آواز سن کر کتنا خوش ہے۔۔۔ لیکن اس کی یہ خوشی ایک دم سے دھواں دھواں ہو گئ جب
اطہر نے اسے گرجدار آواز میں کہا۔۔۔ دیکھو لڑکی آئندہ مجھے میسج یا فون کرنے کی
کوشش نہ کرنا۔۔۔ اطہر یہ کیس طرح سے بات کر رہے ہو تم مجھ سے۔۔۔ منیزہ نے دبی آواز
میں کہا۔۔۔ اسی طرح ہی بات کرنی چاہئے تم جیسیوں سے۔۔۔ امیر خوبصورت لڑکا دیکھا
نہیں کہ بس شروع ہوگئ ۔۔ شروعات میں نے نہیں تم نے کی تھی۔۔۔میرے آگے پیچھے تم
پھرتے تھے میں نہیں۔ منیزہ نے بھی بھرپور جواب دیا۔۔ ہننہہ میں نے تم سے صرف اس
لیے دوستی کی تھی کہ مجھے سارے کام چاہیے ہوتے تھے تم سے اور جو تم باخوبی کیا
کرتی تھی۔۔۔ اور وہ محبت کے دعوے۔؟وہ ساری باتیں۔۔۔؟ وہ سب تو دل بہلانے کے لئے
تھا ۔میری جان۔۔۔اور تم نے خوب اچھے سے۔ بہلایا۔۔
i appreciate you my fake love اور تو اور نہ صرف میرا بلکہ عاقب کا بھی۔۔۔ کیا مطلب ۔۔۔۔؟
وہ جو خاموشی سے آنسو بہاتے ہوئے اسے سن رہی تھی اس کی بات پر چونکی. مطلب یہ کہ
مجھے تم میں نہ کوئی انٹرسٹ ہے نہ تھا ۔۔۔ اسی لئے عاقب جب بور ہوتا تھا تو اس نے
تم سے باتیں کی ہیں

Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}

ONLINE READING

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *