Wifey For Lifey By Zile Huma

 Novel : Wifey For Lifey 
Writer Name : Zile Huma

Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.
They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , full romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels
romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based,
Wifey For Lifey Novel Complete by 
Zile Huma is available here to download in pdf form and online reading.

$ads={2}
 

صوفییییییییہ…. ؟ اُففف کیا مسئلہ ہے سوتے ہوۓ دھماکے کم
کیا کرو
.. صوفیہ نے بیڈ سے اٹھتے انگڑائی لیتے سامنے والے کو آنکھیں
دکھائی تھی
اپنی ذبان بند کرو مُجھے یے بتاو یہ کیا ہے؟ شاہ میر نے بیڈ
پر بیٹھتے اپنی گردن کی طرف اشارہ کرتے آنکھیں پھیلا کر پوچھا تھا
.. اوہ یہ.. واؤ کتنے پیارے لگ رہے
صوفیہ نے آنکھوں کا زاویہ شاہ میرکی گردن پر
کرتے نشانوں پر ہاتھ رکھا تھا..اور شاہ میر کی بات کو اگنور کرتے اپنی تعریفوں کے
پُل جارے تھے
.. ہاتھ پیچھے کرو یہ بتاو یہ کیا ہے…؟؟؟ شاہ میر نے صوفیہ کے
سامنے سے اٹھتے ہاتھ ہٹاتے پوچھا تھا
.. جان یہ پھول ہے جو میں نے اپنے ہونٹوں سے تمھاری گردن پر بہت
محنت سے بناۓ.. بالوں کو باندھتے صوفیہ نے شاہ میر کو آنکھ ماری تھی… جب تم پتہ
نہیں کونسی بخوشی کی دوا کھا کر سو رہے تھے

شاہ میر نے مُٹھیاں بھینچی تھی.. اور ہاں اگر تھوڑی سی انگلش سیکھ لیتے تو اسے hickey کہتےصوفیہ اِسکا حساب تو میں بعد میں لوں گا ابھی سب باہر میرے
بارے میں کیا سوچیں گے
شاہ میر نے دُکھ سنایا تھا.. صوفیہ نے بیڈ سے ٹیک لگائی تھی.. پہلی بات یہ بتاو جب حساب لوگے میری گردن میں بھی اسی طرح
پھول بناو گے… ششاہ میر نے ماتھے پر ہاتھ رکھا تھا

اور دوسری بات.. کیا سوچیں گےلوگ یہی سوچیں گے
بہت اچھی بیگم
.. تمھارا تو میں منہاچھا جاؤ جاؤکام کرو بھول رہے مشن پر ہو
صوفیہ نے بات کاٹتے اپنی بات کہی تھی اور یاد
رکھنا آج رات میں ان نشانوں کو اور گہرا کرنے کا ارادہ رکھتی

شاہ میر غصے سے بڑبڑاتا واشروم میں گھس گیا تھا
اور پیچھے سے صوفیہ کے ایک اور وار پر مسکراہٹ چھپانا نہیں بُھولا تھا ٹڈاا نہ ہو
تو
صوفیہ بھی شاہ میر کو ایک نۓ خطاب سے نوازتے دوبارہ سونے
کیلیے لیٹ گئی تھی

Click on the link given below to Free download Pdf
It’s Free Download Link

Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}
Online Reading

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *