Juda Huway Kuch Is Tarah By Manal Ali

 

  Novel : Juda Huway Kuch Is Tarah Complete Novel
Writer Name : Manal Ali
Category :  Romance Based Novel

Manal Ali is the author of the book Juda Huway Kuch Is Tarah Pdf. It is an excellent social,romantic urdu novels,bold novels,second marriage based urdu novels,revenge based urdu novels,
Mania team has started  a journey for all social media writers to publish their Novels and short stories. Welcome To All The Writers, Test your writing abilities.

They write romantic novels, forced marriage, hero police officer based Urdu novel, suspense novels, best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels , romantic novels in Urdu pdf , Bold romantic Urdu novels , Urdu , romantic stories , Urdu novel online , best romantic novels in Urdu , romantic Urdu novels

romantic novels in Urdu pdf, Khoon bha based , revenge based , rude hero , kidnapping based , second marriage based, social romantic Urdu,

Juda Huway Kuch Is Tarah Novel Complete by  Manal Ali is available here to 

وہ
اپنے کمرے کی چھوٹی سی بالکنی میں کھڑی بارش میں بھیگی ہوئی تھی زینب نے عمر کا
سفید کرتا پہن رکھا تھا جو اسے عمر پر بہت پسند تھا ۔۔ اس سفید کرتے میں ابھی تک
عمر کے خوشبو محسوس ہوتی تھی ۔۔۔ اس کے ہر کپڑوں میں وہی مخصوص پرفیوم کی خوشبو
تھی جو کبھی اسے جعفر نے دیا تھا اور یہ پرفیوم خریدنا عمر کی واحد فضول خرچی ہوتی
تھی جو عمر ہر پندرہ دن کے بعد کرتا تھا ۔۔ عمر کو اس پرفیوم کی خوشبو بہت زیادہ
پسند تھی ۔۔ جعفر کو بھی وہ پرفیوم بہت پسند تھا ۔ بارش اب مزید تیز ہوگئی تھی ۔۔ سامنے
لگا بادام کا درخت بارش میں بھیگ رہا تھا اس کے پتے اب بہت سے نئے نکل چکے تھے ۔۔۔
وہ عمر کا کرتا پہنے نہ جانے کتنے دن بعد یو آج بارش میں بھیگ رہی تھی ۔۔۔ زینب نے
اپنی آنکھیں بند کر کے چہرے اونچا کیا تو بارش کی بوندیں اس کا چہرہ پوری طرح سے
بھگا چکی تھی ۔۔۔ ایسے لمحے گھر کا میں ڈور کھلا ۔۔ جعفر ایئرپورٹ سے نکلنے کے بعد
گھر نہیں گیا تھا بلکہ سیدھا زینب کے پاس آیا تھا ۔۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا
تھا جعفر نے اپنے موبائل کی ٹارچ چلا کر دروازہ چابی سے کھولا ۔۔اور اندر کی طرف سے
آیا ۔۔ زینب ۔۔ جعفر نے ا سے پکارا ۔۔ جعفر کمرے کی طرف آیا تو اس کی نظر باہر
بالکنی میں بارش میں بھیگتی ہوئی زینب پر پڑی۔۔ زینی ۔۔ جعفر اسے پکار نا چاہ رہا
تھا مگر بیچ میں ہی رک گیا ۔۔۔ وہ اب آہستہ چلتا ہوا بالکی سے تھوڑا دور کھڑا
ہوگیا ۔۔۔ زینب کے لمبے بال اس کی پوری کمر پر پھیلے ہوئے تھے ۔۔ زینب کو اپنے ارد
گرد وہی عمر کے وجود سے اٹھتی ہوئی خوشبو محسوس ہوئی جو وہ ہمیشہ لگاتا تھا ۔۔۔ اس
کی یادوں میں اس کی باتوں میں وہ لڑکی ہمیشہ کھوئی ہوتی تھی جیسے آج تھی ۔۔ جعفر میں
موبائل ٹیبل پر رکھا اور پھر بالکنی کی طرف جانے لگا ۔۔۔ وہ اپنا چہرہ اوپر کیے
خاموشی کے ساتھ بارش میں بھیگ رہی تھی ۔۔ جعفر اس سے چند قدم دور دیر تک کھڑا بارش
میں بھیگتا ہوا اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ بھیگی ہوئی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔ اس کے
لمبے گیلے بال اس کی کمر پر چپکے ہوئے تھے جعفر کا دل اس کے خوبصورت سے موجود کو
دیکھ کر زور سے دھڑکا ۔۔۔ جعفر اب زینب کے اور قریب ہو چکا تھااس نے اپنے دونوں
ہاتھ بڑھا کر زینب کو اپنے حصار میں پیچھے کی طرف سے لیا تھا ۔۔۔ چند لمحے یوں ہی
خاموشی سے گزر چکے تھے ۔۔۔ جعفر نے نرمی سے زینب کو اپنے حصار میں مزید قریب کیا ۔۔دونو
ں کھڑے نجانے کتنی دیر بارش میں بھیگتے رہے ۔ ۔۔ یہاں تک زینب نے اپنا سر جعفر
کندھے سے ٹکایا دیا ۔۔۔ کتنی خوبصورت بارش ہے نا ۔۔؟؟ زینب نے آہستہ آواز میں کہا ۔۔
ہاں ۔۔۔ مگر تم سے کم ۔۔۔ وہ جعفر کی بات پر پورے دل سے مسکرا اٹھی ۔۔ زینب تیزی
سے مڈ ی اور اس تیز بارش میں اس نے جعفر کے چہرے پر بہت نرمی سے ہاتھ رکھا ۔۔ جعفر
نے اسے کھینچ کر اپنے گلے سے لگا ۔۔ جعفر کے وجود سے پھیلتی ہوئی یہ جانی پہچانی سی
خوشبو زینب کو بہت اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔ تمہیں پتا ہے میں تمہیں کتنا یاد کرتی رہی ۔۔
اور اپنے ہونٹ اس کے کانوں کے قریب لاتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔ میں نے تمہیں بہت بہت
یاد کیا مگر دیکھو تم اب آرہے ہو “عمر” ۔۔۔۔۔ تم بہت برے ہو تم مجھے بہت
ستاتے ہو کیوں کرتے ہو ایسا میں تم سے کتنی زیادہ محبت کرتی ہو ۔۔۔ وہ بڑے مان سے
اپنا سر اس کے سینے سے مزید قریب کرتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔
عمر”
۔۔۔ جعفر نے عمر کا نام اپنے لبوں سے پکارا ۔۔۔ وہ ا سے کیا سمجھ رہی ہے ۔۔۔کیا وہ
اسے عمر سمجھ رہی ہے ۔ ۔۔ تبھی اس کے اتنے پاس کھڑی ہے ۔تبھی مجھ سے بات کر رہی ہے
میرے اتنے قریب کھڑی ہے ۔ ایک تکلیف جعفر کے دل میں تیزی سے اٹھی تھی ۔۔ مگر جعفر
نے زینب کو اپنے سے دور نہیں کیا ۔۔ بلکہ اس نے عمر کے نام سننے کے بعد زینب کو اپنے
بہت قریب کر لیا ۔۔ عمر زینب نے آہستہ سے کہا ۔۔۔ ہاں ۔۔ کہو ۔۔ جعفر نے اس کےگیلے
بالوں کو ایک طرف کرتے ہوئے کہا ۔ میں نے تمہیں بہت یاد کیا بہت زیادہ اتنا کے تم
سوچ نہیں سکتے ۔۔ میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا وہ اب اپنے دونوں ہاتھ اس کے گالوں
پر رکھتے ہوئے بڑی محبت سے کہہ رہا تھا۔۔۔ جعفر نے ذرا جھک کر زینب کی تھوڑی کو
اپنے لبوں سے چوما ۔۔۔ اور جھک کر زینب کو اپنی باہوں میں اٹھایا۔۔۔ جعفر نے گیلے
بال اس کے چہرے پر سے ہٹاے پھر اس کے ماتھے اور اس کی دونوں آنکھوں کو چوما ۔۔

  • Download in pdf form and online reading.
  • Click on the link given below to Free download 1601 Pages Pdf
  • It’s Free Download Link


Media Fire Download Link

Click Now 


$ads={1}

$ads={2}

ناول پڑھنے کے بعد ویب کومنٹس باکس میں اپنا تبصرہ پوسٹ کریں اور بتائیے آپ کو ناول کیسا لگا ۔ شکریہ

0 thoughts on “Juda Huway Kuch Is Tarah By Manal Ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *